مستند علماء کرام کے فتاوی جات کے روشنی میں زندگی کے مسائل کا حل

test

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

Thursday, February 14, 2019

لباس کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل


سوال:
آج کل بعض ہمارے اسلامی بھائی لباس ایسا استعمال کرتے ہیں ، جو کہنیوں سے اوپر ہوتا ہےاور سر پر ٹوپی یا کپڑے کے سر بازار چلتے پھرتے ہیں اور بعض ایسا لباس استعمال کرتے ہیں جو اس زمانہ کے صلحاء کے  خلاف لباس ہے کیا س طرح کا لباس استعمال کرنا شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا لباس کیسا تھا ؟ اور آپ کے اصحاب کا لباس کس طرح تھا ؟ بیان فرمادیں تو مہربانی ہوگی ۔
جواب :

جولباس فساق و یا کفار کا شعار ہو اس کے استعمال کی اجازت نہٰں ، صلحاء کا لباس استعمال کرنا چاہیے ، حضوراکرم صلی اللہ علیہ و سلم عامۃ لنگی استعمال فرمایا کرتےتھے، وہاں پاجامہ کا رواج کم تھا، پاجامہ خریدنا اور پسند فرمانا بھی احادیث سے ثابت ہے۔کرتا پوری آستینوں کا ہوتا تھا ، ٹوپی عامۃ سر پر چپکی اور گول ہوتی تھی اس کے علاوہ بھی منقول ہے ، عمامہ کی بھی عادت شریفہ تھی ، چادر کا استعمال بھی کثرت سے فرماتے تھے ، لباس عموما سادہ ہوتا تھا ، جو کچھ حق تعالینے عطافرمادیا ، قدروشکر کے ساتھ بے تکلف استعمال فرمایا اور سرخ خالص اور ریشم کے لباس مرد کے لئے منع فرمایا ہے۔مدارج نبوت ، شرح شمائل ، زادلمعاد میں تفصیل موجود ہے ۔
فقط واللہ تعالی اعلم
فتاوی محمودیہ جلد 24  ص 351

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????